مرکے وِصال ہوتا تو مر ہی لیتے تھوڑے دن
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمرکے وِصال ہوتا تو مر ہی لیتے تھوڑے دن
اُن کے بھی تجاوز سے مل ہی لیتے تھوڑے دن
یوں وسعت میں تو سب شوخ ہیں آنکھیں
اپنے مزاج سے وہ مئکدے پیء بھی لیتے تھوڑے دن
کیا خبر تھی کہ اپنے گھر بھی فرضی نکلیں گے
ورنہ وہ پرایا مکان لے بھی لیتے تھوڑے دن
اِن زرگروں نے بڑا باطل رکھا نہیں تو
منسوُخ زخموں کو سیء بھی لیتے تھوڑے دن
بے جا خیالوں نے اڑان بھرتے نہیں سوچا کہ
منزل کی اُن راہوں پہ چل ہی لیتے تھوڑے دن
زندگی کی ذلالت ہمگیر تھی مجھ سے سنتوشؔ
ورنہ موت کی امید پہ جیء بھی لیتے تھوڑے دن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






