مری آنکھوں سے ترا عکس مٹا دے کوئی۔۔
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAاس قیامت کی خموشی میں صدا دے کوئی
غم کے ماروں کو نئے خواب دکھا دے کوئی
سوچتی ہوں ترے بارے تو تڑپ اٹھتی ہوں
مری سوچوں کو سمندر میں بہا دے کوئی
ہم چراغوں کو سنبھالے ہوئے کب تک رکھیں
ان غضب ناک ہواوں کو بجھا دے کوئی
قتل اس دن کے اجالے میں کیا تم نے مجھے
اب یہ کہتے ہو مری لاش اٹھا دے کوئی؟؟؟
یہ مجھے دیکھنے دیتا ہی نہیں ہے کسی سمت
مری آنکھوں سے ترا عکس مٹا دے کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






