مری تم جان ہو وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAمری تم جان ہو وشمہ
مرا تم مان ہو وشمہ
خدا کی ہے قسم مجھکو
وفا کی شان ہو وشمہ
محبت کر گئ ہوں میں
کہ تم پر مر گئ ہوں میں
مرا پوچھو نہ مجھ سے تم
مری پہچان ہو وشمہ
محبت تم بھی کرتے ہو
کہ مجھ پہ تم بھی مرتے ہو
مگر اظہار سے میرے
بڑی حیران ہو وشمہ
کہ جیسے دل کو دھڑکن سے
کہ جیسے گل کوگلشن سے
مجھے ایسے ضرورت ہے
مرا ارمان ہو وشمہ
میں اک سنگلاخ پھتر ہوں
میں اپنے گھر سے بے گھر ہوں
کہ تم پکھراج و ہیرا ہو
کہ تم مر جان ہو وشمہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






