مری جاں دور مت جانا
Poet: سمیرہ اطہر By: Sumaira Athar, Biharمری جاں دور مت جانا
مری جاں دور مت جانا
جو مانگا تھا خدا سے
ملا ہے وہ خدا سے
مری دعاوں کا اثر تو
مری کاوشوں کا ثمر تو
خدا سے جو پایا ہے میں نے
وہی دعاء نیم شب ہے تو
تیرے وجود سے وابستہ ہوں میں
نہ ہونا مجھ سے جدا تو
تیرے سارے ستم منظور ہیں
گر ایک پیار کا وعدہ کرے تو
جواب سے جس کے ہو سکوں میسر
مری زندگی کا وہ حسیں سوال تو
مری بے شمار الفتوں کا مرکز
مری روز و شب کا خیال تو
مری اتنی سی بس ہے مدعا
مری جاں دور مت جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






