مری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیں
Poet: By: Rania Ch, Lahoreمری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیں
جو سراب ہوں نہ عذاب ہوں وہ رفاقتیں مجھے چاہئیں
انہیں ساعتوں کی تلاش ہے جو کیلنڈروں سے اتر گئیں
جو سمے کے ساتھ گزر گئیں وہی فرصتیں مجھے چاہئیں
کہیں مل سکیں تو سمیٹ لا مرے روز و شب کی کہانیاں
جو غبار وقت میں چھپ گئیں وہ حکایتیں مجھے چاہئیں
جو مری شبوں کے چراغ تھے جو مری امید کے باغ تھے
وہی لوگ ہیں مری آرزو وہی صورتیں مجھے چاہئیں
تری قربتیں نہیں چاہئیں مری شاعری کے مزاج کو
مجھے فاصلوں سے دوام دے تری فرقتیں مجھے چاہئیں
مجھے اور کچھ نہیں چاہئے یہ دعائیں ہیں مرے سائباں
کڑی دھوپ میں کہیں مل سکیں تو یہی چھتیں مجھے چاہئیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






