مرے اندر بغاوت ہو رہی ہے۔۔۔
Poet: وشمہ خان وشم By: وشمہ خان وشم, ROMANIAمجھے تم سے محبت ہو رہی ہے
کبھی تم دل کی دھڑکمرے اندر بغاوت ہو رہی ہے
مجھے تم سے محبت ہو رہی ہے
کبھی تم دل کی دھڑکن سے تو پوچھو
اسے کیا میری عادت ہو رہی ہے؟؟
ہوئے آسان یہ جیون کے لمحے
تری ہجرت میں راحت ہو رہی ہے
میں اپنی بات پر ہی ہنس رہی ہوں
اسے مجھ سے شکایت ہو رہی ہے
جبینِ شوق جھکتی جارہی ہے
عقیدت تو عبادت ہو رہی ہے
مجھے تپتے ہوئے صحرا میں لے چل
مجھے محفل سے وحشت ہو رہی ہے
وہ جس ساعت میں بچھڑا مجھ سے وشمہ
وہ اک ساعت قیامت ہو گئی ہے ن سے تو پوچھو
اسے کیا میری عادت ہو رہی ہے؟؟
ہوئے آسان یہ جیون کے لمحے
تری ہجرت میں راحت ہو رہی ہے
میں اپنی بات پر ہی ہنس رہی ہوں
اسے مجھ سے شکایت ہو رہی ہے
جبینِ شوق جھکتی جارہی ہے
عقیدت تو عبادت ہو رہی ہے
مجھے تپتے ہوئے صحرا میں لے چل
مجھے محفل سے وحشت ہو رہی ہے
وہ جس ساعت میں بچھڑا مجھ سے وشمہ
وہ اک ساعت قیامت ہو گئی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






