مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہ

Poet: بدیع الزماں سحر By: مصدق رفیق, Karachi

مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہ
ہے لہو ترنگ نغمہ یہ نشاط گیں ترانہ

مرے ہم جلیس پھولو مرے ہم نوا عنادل
تری ٹہنیوں پہ کل تک تھا مرا غریب خانہ

میں مقیم گلستاں ہوں مجھے جانتے نہیں ہو
ابھی چار دن ہوئے ہیں کہ جلا ہے آشیانہ

تو ستم نصیب طائر کہاں جائے گا فضا سے
کہ متاع باغباں اب ہے چمن کا آب و دانہ

بڑی مشکلوں سے دولت یہ لگی ہے ہاتھ تجھ کو
کہیں لٹ نہ جائے پیارے ترا قیمتی خزانہ

نہ تو کف ہے خون میں تر نہ گواہیاں میسر
مرے مہرباں مبارک یہ قتال ماہرانہ

کہو بجلیوں سے جا کر کہ وہ آئیں ضد سے میری
میں رکھوں گا اس چمن میں یہیں اپنا آشیانہ

وہ خزاں کے روز و شب تھے جو بہار سے تھے بہتر
کہ غرض سے بے غرض تھا سحرؔ اپنا دوستانہ
 

Rate it:
Views: 367
24 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL