مرے دِل میں جو ایک زہرہ جبیں ہے
Poet: JAVAID DANIEL By: JAVAID DANIEL, Lahoreمرے دِل میں جو ایک زہرہ جبیں ہے
کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے
نگاہیں اُٹھائے یا پلکیں جھکائے
ادا سے چلے یا ہنسے آفریں ہے
مری دِل رُبا ہے وہ پریوں کی رانی
کہیں دُور رہ کر بھی دِل کے قریں ہے
ہماری محبت خدا جانتا ہے
جَڑا ہو انگوٹھی میں جیسے نگیں ہے
مرے عشق کی بھی کہانی عجب ہے
مَیں رہتا یہاں ہوں وہ رہتی کہیں ہے
ہَوا پھُول سے گُفتگُو کر رہی تھی
اگر ہم نہ ہوں کب یہ دُنیا حسیں ہے
یہ ممکن نہیں ہے اُسے بھول جاؤں
وہ جاویدؔ ! جو میرے دِل میں مکیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






