مزدور کا یوم ویلنٹائن
Poet: سرور فرحان سرور By: سرور فرحان سرور, Karachiملی نہ فکرِ روزی سے ہمیں ذرا مہلت
سو عشق وشق کی ہم پالتے بھی کیا علّت
ضرورتوں نے ہمیں زندگی کی باندھا ہے
ہمارے واسطے بس حسرتوں کا کاندھا ہے
مُقدر کا ہے لکھا کریں فقط محنت
پھر بھی پائیں نہ ہرگز اِک ذرا راحت
صبح سے شام تک روٹی ہمیں نچاتی رہے
تمام عمر فقط روٹی یاد آتی رہے
اسی کی چاہ میں ہر روز نئی ذلّت کو سہیں
پھر بھی اشیائے لازم کی قلت کو سہیں
اپنی اولاد کو تعلیم سے محروم تکیں
سیاہ مُستقبل کے اندیشوں سے ہذیان بکیں
اپنے بیمار کو دوا بناء مرتا دیکھیں
اپنے خوابوں کو ہر لحظہ بکھرتا دیکھیں
بہرِ مزدور ہے یکساں ہر اِک روز اور شب
رقصِ بِسمل کے دیکھے سے ہے فُرصت ہی کب؟
تم کو اُلفت و محبت کی ادا خُوب رہی
میری ہستی میرے اپنوں سے ہی محجُوب رہی
مُجھ کو تہوارِ محبت نہیں بھاتا ہرگز
میری ہستی میں یہ خوشیاں نہیں لاتا ہرگز
میں جو چاہوں بھی تو یہ دِن مناسکتا نہیں
روٹی کے بدلے گھر پھول لیجا سکتا نہیں
گفٹ محبوب سے کیا تم کو ملے گا صاحب؟
فکر مجھ کو ہے میرے گھر کیا پکے گا صاحب؟
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






