مسافر لوٹ کے آجا
Poet: saqib hamdosh By: saqib hamdosh, islamabadچل کھول دے اپنے در مسافر لوٹ کے آجا
چراغ پھر سے روشن کر مسافر لوٹ کے آجا
اب آنکھیں نم کیوں ہیں یہ دل پریشاں کیوں ہے
لبوں پہ اب مسکراہٹ کر مسافر لوٹ کے آجا
بےوجہ وبےسبب بےوفائی کا داغ ملا
تنہا رہا عمر بھر جدائی کا ساتھ ملا
کس کس سے ملی بےوفائی کس کس سے ملی رسوائی
چل چھوڑ ان باتوں کو ختم کر مسافر لوٹ کے آجا
خودی میں ڈوب کر اب مر خودی سے آنکھیں چار کر
اور دل کا آئینہ کھول دےاسی میں "ہمدوش" تلاش کر
مسافر لوٹ کے آجا
مسافر لوٹ کے آجا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






