مسجد اقصٰی کے نام
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiفلسطیں میں شہیدوں کے لہو کی اتنی ارزانی
گلی کوچوں میں جیسے جا بجا بہتا ہوا پانی
مگر ہے اُمتِ مسلم ابھی تک محوِ حیرانی
ہے چھائی اس پہ عیش و زر پرستی فحش و عریانی
درودیوارِ اقصیٰ سے یہی پیغام آتا ہے
مسلمانو ؛ تمھیں پھر قبلۂ اوّل بلاتا ہے
نہیں مومن پہ لازم کیا حرم کی پاسبانی ہے
بھلادی تم نے یہ اسلام کی زندہ نشانی ہے
غلامی میں گذرنی کیا تمھاری زندگانی ہے
نہیں کیا دین کی خا طر تمھاری نوجوانی ہے
درودیوارِ اقصیٰ سے یہی پیغام آتا ہے
مسلمانو ؛ تمھیں پھر قبلۂ اوّل بلاتا ہے
بہت تم سو چکے غفلت میں اب بیدار ہو جاؤ
عدو کی سازشوں سے مومنو ہشیار ہو جاؤ
دفاعِ دینِ حق کے واسطے تیار ہو جاؤ
ہتھیلی پر لئے جاں بر سرِ پیکار ہو جاؤ
درودیوارِ اقصیٰ سے یہی پیغام آتا ہے
مسلمانو ؛ تمھیں پھر قبلۂ اوّل بلاتا ہے
اُٹھو نامِ خدا لوکفر کو جھنجوڑ ڈالو تم
یہودی حاکمیت کے فُسوں کو توڑ ڈالو تم
اُٹھیں جو جانبِ اقصیٰ وہ آنکھیں پھوڑ ڈالو تم
عدو کے پنجۂ ظلم و ستم کو موڑ ڈالو تم
درودیوارِ اقصیٰ سے یہی پیغام آتا ہے
مسلمانو ؛ تمھیں پھر قبلۂ اوّل بلاتا ہے
تم عزم و حوصلے میں خالدِ جرار ہو جاؤ
شجاعت میں مثالِ حیدرِ کرار ہو جاؤ
شہادت کے نشے میں جعفر طیّار ہو جاؤ
سرِ میداں عدو کے واسطے ضرار ہو جاؤ
درودیوارِ اقصیٰ سے یہی پیغام آتا ہے
مسلمانو ؛ تمھیں پھر قبلۂ اوّل بلاتا ہے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






