مسحور نگاہوں سے پیاسوں کی گلی دیکھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامسحور نگاہوں سے پیاسوں کی گلی دیکھی
پانی کے کٹورے میں موتی کی لڑی دیکھی
بادل کو ہواؤں کے ہونٹوں سے لگا دیکھا
ہر دشت کے سینے میں اک آگ لگی ہے
سورج نے تبسم سے محروم کیا جس کو
خوبواں کے گلستاں میں کھلتی وہ گلی دیکھی
تہزیب وتمدن کے آثار نظر آئے
پھر دل نے کوئی بستی یادوں سے بسی دیکھی
تم کو ہی عزیزوں کی پہچان نہیں شاہد
ہم نے یہاں دنیا اپنوں سے بھری دیکھی
رہ رہ کے شناور سب مایوس چلے آئے
جزبات میں پھر بہہ کر ہم نے وہ ندی دیکھی
تجھ میں تجھے دیکھا ہے ،خود میں بھی تجھے دیکھا
ہم نے تو ہمیشہ سے اپنی ہی کمی دیکھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






