مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
Poet: حضرت شاھین اقبال اثر صاحب By: Umma Muhammad, Kuala Lumpur Malayisaمسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
سنو صدیق اکبرؓ کی طرح خودّار ہوجاؤ
اٹھو فاروقِ اعظمؓ کی طرح جیدار ہوجاؤ
بڑھو عثمان ذوالنورین کی تلوار ہوجاؤ
چلو اب پیرو کارِ حیدرِ کرار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
دفاعِ اہلِ ایماں کے لئے تیار ہوجاؤ
مقابل کفر کے اک آہنی دیوار ہوجاؤ
گلے کے طوق کو توڑو تبربردار ہوجاؤ
محمد ابنِ قاسم سے سپہ سالار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
مسلماں کو مٹاؤ کفر کا پرزور نعرہ ہے
خدا کے دین کا مٹنا تمہیں کیونکر گوارا ہے
امیرالمؤمنیں نے اہلِ ایماں کو پکارا ہے
ضرورت کا تقاضا ہے کہ تم انصار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
نہ ٹھہرو اپنے محلوں میں اب آبِ منجمد ہوکر
ہوا ہے حملہ آور کفر تم پر متحد ہوکر
علاج اس کا کرو اب تم بھی فوراً مستعد ہوکر
تھے اب تک پھول بن کر اب مگر تلوار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
یہودی پھرمظالم کا بپا طوفان کرتا ہے
اور عیسائی صلیبی جنگ کا اعلان کرتا ہے
تقاضا صاحبِ ایمان سے ایمان کرتا ہے
صلاح الدین ایوبی کے پیروکار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
یہ مانا ایٹمی قوت نہیں ہے مال تو ہے نا
تمہاری مملکت میں ہی زرِ سیال تو ہے نا
یہ دولت کافروں کے زیرِ استعمال تو ہے نا
بہت لوٹا گیا تم کو، بس اب ہشیار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
کہیں پر اک مسلماں بھی جو گھر جائے مصیبت میں
تو آنا چاہیئے کُل امتِ مسلم کو حرکت میں
رہو گے کب تلک تم مبتلا یوں خوابِ غفلت میں
کہیں خود بھی نہ آڑے وقت سے دوچار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
رہو گے کب تلک یوں محوِ طاؤس و رباب آخر
عدالت میں کھڑا ہونا تو ہے روزِ حساب آخر
خدا کے سامنے دوگے بتاؤ ! کیا جواب آخر
کہیں ایسا نہ ہو اس دن ذلیل و خوار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
ہے جینا بھی کوئی جینا اگر ذلت مقدر ہے
اِدھر پاؤں میں بیڑی ہے اُدھر گردن پہ خنجر ہے
اب ایسی زندگی سے تو یقیناً موت بہتر ہے
سو اب سلطان ٹیپو کی طرح جیدار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
جہاں آزاد لوگوں کو غلامی راس آتی ہے
تو ذلت اور رسوائی یقیناً پاس آتی ہے
سو جگری دوستوں میں بھی عدو کی باس آتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو تم لقمہء اغیار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
مقابل حق کے باطل مات ہے یہ جانتے ہو تم
بھلا کیا کفر کی اوقات ہے پہچا نتے ہو تم
سپُر طاقت خدا کی ذات ہے خود مانتے ہو تم
خدا کے نام پر آزاد و خود مختار ہوجاؤ
مسلماں حکمرانو! اب تو تم بیدار ہوجاؤ
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا






