مسکر ا کر دل ہمارا لے گئے
Poet: AHSAN SAILANI By: ahsan sailani, FAISAL ABADمسکر ا کر دل ہمارا لے گئے
چودھویں کے چاند ، تار ا لے گئے
چاند نے پوچھا حسیں تر کون ہے ؟
نام جلدی میں تمہارا لے گئے
ڈوب جاتے ہم بھی آخر بالیقیں
اُن کی نظروں کا سہارا لے گئے
اُن کے قدموں کی ضیافت کیلئے
آنسوؤ ں کا آب پارا لے گئے
کچھ پتہ دل کا نہ سانسوں کی خبر
لُوٹ کر سامان سارا لے گئے
اے زمانے ! بھول بھی جا اب ہمیں
ہم مسافر کی تمہارا لےگئے
آپ کے کوچے میں مدفن ہے مرا
کس طرف کو تاجدارا ! لے گئے
یاد آئی آنسوؤ ں نے کیاکیا؟
ساتھ پلکوں کا کنارا لے گئے
ناز والے ! دل ہمارا لے اُڑے
جیت والے ایک ہارا ،لے گئے
وہ تو سیلانی ہماری جان ہیں
لوٹ کر جو دل ہمارا لے گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






