مسکراتی ھوں میں چھپ کر۔۔۔۔۔۔۔
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Islamabadمسکراتی ھوں میں چھپ کر
تیری باتیں جب بھی یاد آئیں مجھے
مسکراتی رہ گئ میں بار بار
سرخ گالوں کی تپش محسوس کی
میرے ھی الفاظ اس کے لب پر تھے
اور پھر میں مسکراتی رہ گئ
کون سی نسبت ھے تجھہ سے کیا خبر
کون سا رشتہ ھے تیری ذات سے
تیرے ہاتھوں کے ہنر کا ھے کمال
چھائی رہتی ہیں تیری باتیں
میرے اعصاب پر،اظہار پر
مسکراتی ھوں میں چھپ کر بار بار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






