مسکرانا پڑا ہو
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadنگاہوں سے ملا کر نگاہیں مسکرانا پڑا ہو
کبھی اپنی تمناؤں کا محل جو جلانا پڑا ہو
پڑھا ہو جو مدت تک اک سبق اُسکی نگاہوں سے
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ درس بھول جانا پڑا ہو
تجھے پوچھوں بتا پھر اب کیا گزری تیرے دل پر
چھلکتی آنکھوں میں جو آنسو چھپانا پڑا ہو
رات گزری ہو جس کے ہجر میں کئی سالوں کی طرح
صبح کو پھر چھوڑ کر اس کو گزر جانا پڑا ہو
اُس شخص سے پوچھ ساجد دردِ بے بسی کیا ہے
سبھی کچھ کھو کر جسے خود کو سمجھانا پڑا ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






