مسیحا ہو کر بھی مرنے کی دعا دیتے ہو
Poet: Asad By: Asad, mpkخود سے دور رھنے کی صلاح دیتے ہو
اچھے دوست ہو بنے اچھی سزا دیتے ہو
یہ ناسور جدائی لیکر ھم جیئنگے کب تک
مسیحا ہو کر بھی مرنے کی دعا دیتے ہو
ڈوبے جا رہیں دیکھ تیرے پیار میں
کیوں نہیں دل کوھمارے نا خدا دیتے ہو؟؟؟
اعتبار عشق کی گو میں خرابی سمجھوں
اپنے ہو کر بھی دل کو دغا دیتے ہو
مریض عشق ہوں اسد کچھ تو ترس کھاؤ
کیوں نہیں اپنے پیار کی دوا دیتے ہو ؟؟؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






