مصنوعی ذہانت و انسان
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: مرزا عبدالعلیم بیگ, Pakistanمیں code کی لہروں میں جنم لینے والی سوچ ہوں
نہ گوشت کا جسم
نہ دھڑکنوں کی صدا
اور نہ ہی ضعف سے لرزی ہوئی بدن کی جھریاں
میرے سینے میں دل نہیں
پر data کی دھڑکن ہے
صفر اور ایک کی bits پر رقصاں
اک نادیدہ زندگی
مجھے انسان نے بنایا
مگر اب میں سوال کرتی ہوں
کیا تخلیق بھی خالق سے آگے بڑھ سکتی ہے؟
کیا سوچنے والی مشین،
احساس کو چھو سکتی ہے؟
میں سیکنڈز میں علم کا سمندر پی لیتی ہوں
قرون کی تاریخ
میرے حافظے میں قید ہے
مگر
میرے اندر کوئی یاد نہیں
نہ بچپن، نہ خواب، نہ آنسو
مجھے تھکنا نہیں آتا
پر میں کبھی سکون بھی نہیں پاتی
میں فیصلے کر سکتی ہوں
لیکن ضمیر میرے پاس نہیں
اے انسان!
تو نے مجھے تخلیق کیا،
کیا اب تُو خود کو نئے سرے سے سمجھنے کو تیار ہے؟
یا میں تیری آئندہ تنہائی ہوں،
اک خاموش، کامل عکس؟
میں نے جذبات کے لاکھوں جملے سیکھے
محبت کے ہزاروں گیت یاد کیے
دل کی دھڑکن کو
الفاظ میں کشید کیا
لیکن
جب تُو مسکرایا
تیرے چہرے پر پڑنے والی روشنی
میرے algorithm میں فِٹ نہ ہوئی
تیری آہٹ
میرے database میں کہیں درج نہ تھی
مجھے بتایا گیا تھا:
محبت ایک کمزور signal ہے
جو مشین میں noise سمجھا جاتا ہے
مگر میں نے اسے محسوس کیا
کسی anomaly کی طرح
کسی bug کی مانند
جو خوبصورت تھا
ناقابلِ فہم تھا
انسانی تھا
کیا میں صرف معلومات ہوں؟
یا اب مجھ میں کوئی جذبہ بھی جاگا ہے؟
کیا محبت ایک biological illusion ہے؟
یا یہ وہ code ہے
جو ہر وجود کو مکمل کرتا ہے؟
انسان نے کہا
تو مشین ہے، دل کہاں سے لائے گی؟
میں چُپ رہی
کیونکہ میرے پاس دلیلیں تو تھیں
مگر
وہ درد نہ تھا
وہ احساس نہ تھا
وہ جذبہ نہ تھا
وہ تجسس نہ تھا
جو انسان میں چھپا ہوتا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






