مضطرب ہےشمع بھی قرب پانےکو
Poet: johar mumtaz By: johar mumtaz, lahoreمضطرب ہےشمع بھی قرب پانےکو
رب سے اور کیا چاہیے پروانے کو
شبِ ہجر کے الم مٹنے کو ہیں
خور تیار ہے سحرِ وصل لانے کو
زمان و مکاں کہاں سکت رکھتے ہیں
دِل ہی کام آئےگاجلوہ چھپانے کو
وہ اپنی آنکھوں پے گِرا دیں جو پردہ
کون آباد کرے گا پھر میخانے کو
اتنی بھی تگ ودوکی ضرورت کیاہے
اِک چنگاری کافی ہےگھر جلانے کو
جن کی باتیں ہیں میری سانسیں
شیوہ بنا رکھا ہے مجھ کترانے کو
غمِ جاناں کو کہاں تک یاد رکھوں
غمِ دوراں ہی کافی ہےدل جلانےکو
خوابوں کا لالچ دیتےہیں آنکھوں کو
شبِ ہجر میں خود کو سلانے کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






