مغرب زدہ عورت
Poet: By: mohammed arif raja, Madinahیہ بجھا بجھا سماں ہے یہ جلی جلی فضا ہے۔
یہ ظلم بھی ہے یارو اور شرم کی قصا ہے۔
پرنور ہیں یہ چہرے میک اپ کی تہ جمائے۔
در سے نکل کھڑے ہیں گھر کے ہیں یہ ستائے۔
یہ چوھدویں کی راتیں جوانی کے ہیں زمانے۔
ھم خوب کیہ رہے ہیں کوئی بے شک نہ مانے۔
دیکھو تو زن کی مستی بے پرد گھومتی ہے۔
پی کر شراب مغرب سڑکوں پہ جھومتی ہے۔
ساغر اچھالتی ہے انکھیں نکالتی ہے۔
یہ کالی کالی زلقیں کاندھوں پہ دالتی ہے۔
سب جانتی ہے دنیا مسلم کی ہے یہ بیٹی۔
یہ پینٹ شڑٹ پر پہنی ہے جس نے پیٹی۔
بے خوف جارہی ہے تانے ھوئے ہے چھاتی۔
بچنا رے بھائی میرے مغلوب ہے یہ ہاتھی۔
چھوڑا ہے گھر کو گھر میں دفتر کی طرف بھاگی۔
سوئی ھوئی تھی پہلے ہے اس صدی میں جاگی۔
بن کر رھے گی لیڈر موسیقی کی شہدائی۔
سب پر نظر مساوی بچوں کی کیا جدائی۔
ہنس بھی رہے ہیں لیکن افسوس ھو رھا ہے۔
اسلام کا جو سایہ روپوش ھو رھا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






