مفلسی
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Sufi Haq Nawaz, Chakwal
برا وقت لاتی ہے یہ مفلسی
بہت آزماتی ہے یہ مفلسی
بڑے نا موافق ہیں یہ پیچ وخم
نئے موڑ لاتی ہے یہ مفلسی
مصائب نے ہر سمت گھیرا ہوا
کھلے آسماں میں بسیرا ہوا
کسی غیر سے ہم گلہ کیا کریں
ہے اپنوں نے منہ آج پھیرا ہوا
نظر سے گراتی ہے یہ مفلسی
بہت آزماتی ہے یہ مفلسی
بغل گیر رہتے تھے جو ہر گھڑی
وہی یار نظریں چرانے لگے
کبھی مل گئے جو مجھے بھیڑ میں
بڑی ہمدردی دکھانے لگے
کئی رنگ دکھاتی ہے یہ مفلسی
بہت آزماتی ہے یہ مفلسی
فاقہ کشی نے کیا ہے کہن
جوانی گئی اور گیا بانکپن
جینے کا احساس باقی نہیں
توڑ ڈالا غریبی نے میرا بھرم
ہردئیے کو بجھاتی ہے یہ مفلسی
بہت آزماتی ہے یہ مفلسی
صدیقی غموں سے ہوا ہے نڈھال
کروں آج کس سے میں اپنا سوال
میں بھی وہی اور جہاںبھی وہی
بدل دی زمانے نے کیوں اپنی چال
دربدر کیوں رلاتی ہے یہ مفلسی
بہت آزماتی ہے یہ مفلسی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






