مقامِ عاشق
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Islamabadمنزلِ عشق میں معشوق کی کوئ جگہ نہیں ہوتی
یہ سامانِ سفر ہے, ضرورت اس سے زیادہ نہیں ہوتی
چاہتیں جسموں کی تو بھاؤ تاؤ مانگے ہیں
خیال سے جب عشق ہو, تجارت نقصان ذدہ نہیں ہوتی
لوگ تو پا کر بھی اسے خاک کر دیتے ہیں
سرورِ عشق میں,ضرورت اسکی بھی جابجا نہیں ہوتی
رہنا بن کے معشوق کسی کا,کم تکلف سے نہیں ایمانؔ
مقامِ عاشق پا کر, جہاں میں پھر عام زلیخا نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






