مقدر
Poet: Muhammad Arshad Qureshi By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiجس کو تھا جتنا پیار وہ سب نے جتا لیا
دیپک کی مثل مجھ کومحبت نے کھا لیا
سورج مرے جو حصے کا تھا وہ بھی لے گئے
سب نے ہی اونچا گھر یہاں اپنا بنا لیا
رہتے تھے سب جہاں کبھی کس میل جول سے
ظالم نے آج اس کو نشانہ بنا لیا
وہ بھی چلی گئی مجھے یوں چھوڑ کر یہاں
جس کے لیے جہان کو دشمن بنا لیا
ہم کو یہاں پہ پیار کی ایسی سزا ملی
اشکوں کو اپنی آنکھ میں ایسے سجا لیا
کچھ دیر ہی تو الجھے تھے حالات سے یہاں
تم نے بھی بس اسی کو بہانا بنا لیا
ارشیؔ جہاں میں اور کوئی دوسرا نہیں
تم نے بھی تو ہجر کو مقدر بنا لیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






