ملا تھا ایک ہم سفر نیا کے دیکھتے ہیں ہم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہر ایک بات ذہن میں بسا کے دیکھتے ہیں ہم
ملا تھا ایک ہم سفر نیا کے دیکھتے ہیں ہم
بدل رہا ہے سوز میں جو قہقہہ لگا ہوا
چلے چلو کہ منزلوں ملا کے دیکھتے ہیں ہم
کہانیوں کا روپ دے کے ہم جنہیں سنا سکیں
ہماری زندگی میں ایسے آ کے دیکھتے ہیں ہم
ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیں
ہمارے سامنے نظر ہٹا کے دیکھتے ہیں ہم
کسی کے نام آگیا تھا یونہی درمیان میں
اب اس کا ذکر کیا کریں خدا کے دیکھتے ہیں ہم
بغاوتوں نے توڑ دیں کئی روایتیں مگر
دلوں کے بیچ سلسلہ جڑا کے دیکھتے ہیں ہم
غزل فضا بھی ڈھونڈتی ہے اپنے خاص رنگ کی
ہمارا مسئلہ فقط اٹھا کے دیکھتے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






