ملا کر نظریں پھر سے چرانے والے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK ملا کر نظریں پھر سے چرانے والے
پیار کو جامع حقیقت پہنانے والے
تکتی ہیں نگا ہیں راستہ تیرا۔
آنکھوں میں شمع الفت جلانے والے۔
ملے فرصت کبھی پوچھ لینا ہم کو۔
دھڑکن میں سانسوں سے سمانے والے۔
دل کی بستی ھے تجھ بن ویراں۔
او ! صحرا کو گلشن بنانے والے۔
ہماری بھی فریاد نا رسائی سن لے۔
او ! روداد غم اپنی سنا نے والے۔۔
ہماری بھی سن لے کچھ منہ زبانی۔
او ! بیاں عشق خود سے فرمانے والے۔
زیب نہیں تجھ کو یوں گلہ محبت۔
غیروں کے کہنے میں آ جانے والے۔
گھائو گہرا ھے اپنے زخمی جگر ھے۔
او ! مرہم کافور کے لگانے والے۔
کوئی وعدہ وفا ہو جائے پھر سے ؟
میرے پیار پر انگلی اٹھانے والے۔
ہو جائے کوئی فیرا ادھر بھی۔
شمع انتظارکے بجھانے والے۔
زندگی کی سانسیں رواں ہیں تمسے۔
اسد خستہ کو جینا سکھانے والے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






