ملنے سے پہلے بچھڑ گئے ھم
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWملنے سے پہلے بچھڑ گئے ھم
دونوں تو پھر کیا ھوا
ھم پھر ملے گئے ایکبار تجھ سے
تو پھر کیا ھوا
ھم ہر حدود پار کر جائے گئے
ایکبار پھر تو کیا ھوا
ھمیں غم ھے بس اتنا کے توں کسی اور کا ھے
توں پھر کیا ھوا
میں نے بھی تیری طلب توکی
توں پھر کیا ھوا
اگر تم نہ پہچان سکو تو کوئی بات نہیں
ھم تو تیری مہک کی آھٹ سے لپٹ جائے گئے
تو پھر کیا ھوا
توں کچھھ گھبرائے اس سے پہلے
یہ تو صرف ایک خیال ھے
تو پھر کیا ھوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






