ملنےکا بہانہ
Poet: Subhani By: Subhani, sargodhaپہلی بار ملے جہاں ہم انہیں راہوں پر آ کر ملا کرو
جدائی میں اگر میں جلوں تم بھی ذرا جلا کرو
یہ فاصلے تو دوست ہیں بڑھاتے ہیں دلی چاہتیں
اکسائے جب یاد میری میرے خوابوں میں آکر ٹہلا کرو
ناگوار لگے یہ بھی دیکھ کر جب چومتی ہے بدن تیرا
پاؤں زمیں پر نہ رکھ میری تلیوں پر رکھ کر چلا کرو
اک بات تو مجھ کو بھی تم سے کہنی ہے میرے ہمنوا
بانہوں میں آنے کے لیے کر کے بہانہ نا پھسلا کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






