من مندر
Poet: Tasleem Naz Tasleem By: Tasleem Naz, Haveli Lakhaیوں رہو روح کے گرد کہ مجھے اپنا احساس نہ ہو
صرف تم ہی تم رہو کوئی اور میرے پاس نہ ہو
میرا دل مہکتا رہے سدا کھیلتا رہے خوشیو ں سے
کبھی تیرے ہجر میں دل میرا اداس نہ ہو
تیرے ساتھ کیا ہر عہد نبھاؤں میں
کسی اور عہد کا کبھی مجھ کو پاس نہ ہو
میرے لب سیر ہو جائیں تیرے پیار میں
میرے لبوں کو تیرے علاوہ کسی کی پیاس نہ ہو
من مندر میں بسا کے چاہوں تجھےاتنا تسلیم
کہ میرے جیسا دنیا میں کوئی داس نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







