من کو دُوں پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quetta

وہ بھلے سِتمگر ہوں، تلخ کیوں رکُھوں لہجہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سوچنا بھی ایسا کیا، توبہ ہے مِری توبہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

سِلسِلے عقِیدت کے، کم کبھی نہِیں ہوں گے، چاہے آزماؤ بھی
پیار فاختاؤں پر کِس لِیئے رکُھوں پہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

زخم جو بھی بخشیں گے اُن میں پُھول بانٹُوں گا یہ مِرا اِرادہ ہے
اور یاروں کے آگے میں کرُوں کوئی قِصّہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

بات ہے سرِشتوں کی، شوق ہے بہُت لیکن، میں کروں ادا کاری؟
رول بھی بہُت اچھّا، چہرے پر مگر چہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

عُمر تو گُناہوں کے بِیچ میں گُزاری ہے، پارسائی کیا مطلب؟
چاہ کر بھی یارو اب کوئی بھی عمل اچّھا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

اب سِسکتے لوگوں کا درد بانٹا ہو گا وقت کا تقاضہ ہے
دروغ کی مِلاوٹ سے دِل کا جُھوٹا بِہلاوا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

جاگتے میں کاٹی رات واہِموں کی یلغاریں دل پہ راج رکھتی تھیں
من کو دُوں رشِید پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا

Rate it:
Views: 477
22 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL