من کو دُوں پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaوہ بھلے سِتمگر ہوں، تلخ کیوں رکُھوں لہجہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سوچنا بھی ایسا کیا، توبہ ہے مِری توبہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سِلسِلے عقِیدت کے، کم کبھی نہِیں ہوں گے، چاہے آزماؤ بھی
پیار فاختاؤں پر کِس لِیئے رکُھوں پہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
زخم جو بھی بخشیں گے اُن میں پُھول بانٹُوں گا یہ مِرا اِرادہ ہے
اور یاروں کے آگے میں کرُوں کوئی قِصّہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
بات ہے سرِشتوں کی، شوق ہے بہُت لیکن، میں کروں ادا کاری؟
رول بھی بہُت اچھّا، چہرے پر مگر چہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
عُمر تو گُناہوں کے بِیچ میں گُزاری ہے، پارسائی کیا مطلب؟
چاہ کر بھی یارو اب کوئی بھی عمل اچّھا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
اب سِسکتے لوگوں کا درد بانٹا ہو گا وقت کا تقاضہ ہے
دروغ کی مِلاوٹ سے دِل کا جُھوٹا بِہلاوا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
جاگتے میں کاٹی رات واہِموں کی یلغاریں دل پہ راج رکھتی تھیں
من کو دُوں رشِید پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






