منافقت سب میں ہوتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکچھ منافقت مجھ میں ہے
کچھ تمہاری ذات میں بھی
کسی نہ کسی حوالے سے
کسی نہ کسی درجے کی
تھوڑی یا بہت منافقت
سب میں ہوتی ہے
ہم جو سوچتے ہیں ہم وہ کہہ نہیں پاتے
ہم جو کہتے ہیں ہم وہ کر نہیں پاتے
ہم بظاہر خوش نظر آتے ہوئے بھی
کبھی انر سے اتنا خوش نہیں ہوتے
جتنی خوش اسلوبی دکھا رہے ہوتے ہیں
کیا یہ ہماری ذات کی صلیت ہے ۔۔۔
کیا یہ منافقت نہیں۔۔؟
جو ہم ہیں ہم وہ دکھائی نہیں دے رہے
اور کبھی ہم نے چہرے پہ افسردگی سجائی ہوتی ہے
جب کہ ہم اندر سے اتنے افسردہ نہیں ہوتے
جتنی افسردگی چہرے پہ سجائی ہوتی ہے
بلکہ اندر سے تو اکثر ہم مسکرا رہے ہوتے ہیں
کیا یہ سچائی ہے یہ ریا کاری نہیں
کیا یہ اپنے آپ سے دھوکہ۔۔۔
اپنی ذات سے منافقت نہیں۔۔۔؟
اور مجھے یہ سچی بات
خود میرے دل نے بتائی ہے
منافقت سب میں ہوتی ہے
کچھ منافقت مجھ میں ہے
کچھ تمہاری ذات میں بھی
کسی نہ کسی حوالے سے
کسی نہ کسی درجے کی
تھوڑی یا بہت منافقت
سب میں ہوتی ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






