منتظر ۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreمیں منتظر ہوں تجھکو سلام ِ عشق دوں
دل قدموں میں رکھ کے پیغامِ عشق دوں
میں منتظر ہوںفقط تجھ سے ہاں کا
اس ہاں کے لئے تیرے ہر امتحاں کا
میں منتظر ہوں صرف تیری وفا کا
اس وفا کے بدلے جگ سے جفا کا
میں منتظر ہوں تیرا نقاب کب اُٹھے گا
حجاب میں پوشیدہ ماہتاب کب اُٹھے گا
میں منتظر ہوں تیرے بانہوں کے گھیرے گا
اور ہوں منتظر دل میں بسیرے کا
میں منتظر ہوں تیری دلکش مسکان کا
اس مسکان میں چپھے اک نئے جہان کا
میں منتظر ہوں ہو جاﺅںگم، آنکھوں کے اُجالوں میں
اور عمر بھر سویا رہوں، ریشمی گھنیرے بالوں میں
میں منتظر ہوں تیرے اقرار کا
تاحیات چلنے والے یادگار پیار کا
میں منتظر ہوں تیرا، آبدل میری تقدیر
گزر جائے نہ کہیں زندگی، یونہی تکتے ہوئے تصویر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






