منزل

Poet: مسافر نارووالی By: مسلم عتیق, Sioux Falls, SD (USA)

راہ کٹھن ھے دور ہے منزل جسم پہ طاری لرزا سا ہے
ایک تمہاری آس پہ قأم دل آوارہ چل نکلا ہے

ٹھرو ٹھرو لمحو ٹھرو ایسی بھی آخر کیا جلدی
زکر ھمارا ان کی محفل میں دوبارہ چل نکلا ہے

ہلکی ہلکی حدت شمسی نہ کویٔی محور نہ کویٔی منزل
دھونڈنے اپنے ہی محور کو اک سّیارہ چل نکلا ہے

حسن کا پرتو عشق کا جلوہ تیری یاد کی خشبو آییٔ
دل میں ھمارے غزل کی مانند دھیان تمھارا چل نکلا ہے

محو تماشہ مست مۓ جاں پروانہ تو دیکھا ہوگا
دیکھنے اس دیوانۂ دل کو وہ انگارہ چل نکلا ہے

پیش نظر ہو صورت جاناں جاں بلب کیونکر نہ آۓ
ایک ایسا پیمانہ بھرنے یہ بنجارہ چل نکلا ہے

گاہے بہ گاہے زکر تمھارا یہ افسانہ کرتا جاۓ
لفظ نیا اک حرفِ تمنا اک استعارہ چل نکلا ہے

ہم نے ہی اپنے دل میں مسافرؔ کیا ارمان سجا رکھے ہیں
پھر سے لیۓ امّید کی شمع یہ بیچارہ چل نکلا ہے

Rate it:
Views: 739
01 Jan, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL