منزل بیدار رونے دو
Poet: hammad raza By: syed hammad raza naqvi, faisalabadخالی پڑی ہے منزل بیدار رونے دو
پیام بر میسر نہ ہو رہوار ہونے دو
ٹھوکر پڑے حسرت کے آئینے پے ذرا
اک فعل ہی سہی کردار رونے دو
ادھر نہی تو ادھر سہی چل ادھر چلیں
کر رہے ہے خیالات دل کو شرمشار رونے دو
سر زمین دل مے آرزو نے ادھم مچا دیا
ہے رات کٹ رہی اسی بہانے انتظار رونے دو
چمن لالہ زار سے کریں چار دن کی چاندی
ہے سیاست کا دور کاروبار رونے دو
چلو عشق مے یہ الٹی چال چلتے ہے رضا
خزاں کا رونا پھر کبھی بہار رونے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






