منظر دیکھا
Poet: UA By: UA, Lahoreرات کے پچھلے پہر میں ایک حسین منظر دیکھا
پہلے کبھی نہ دیکھا تھا اس رات جو منظر دیکھا
برسات ہونے سے پہلے آسمان بالکل تاریک تھا
چاندنی بھی ماند تھی کیونکہ چاند بہت باریک تھا
کوئی ستارہ تھا نہ کہکشاں نہ روشنی کا ظہور تھا
سارے آسماں پہ چھایا ہوا کالے بادلوں کا شور تھا
کڑکتی بجلیوں کا شور بھی نہایت ہی منہ زور تھا
اس رات کا وہ منظر بہت عجیب لیکن قابلِ غور تھا
رات کے پچھلے پہر ایک بہت دل کش منظر دیکھا
تاروں سے بھرا گہرا نیلا آسماں نظر بھر کر دیکھا
برسات ہونے سے پہلے آسمان بالکل تاریک تھا
چاندنی بھی ماند تھی کیونکہ چاند بہت باریک تھا
کوئی ستارہ تھا نہ کہکشاں نہ روشنی کا ظہور تھا
سارے آسماں پہ چھایا ہوا کالے بادلوں کا شور تھا
کڑکتی بجلیوں کا شور بھی نہایت ہی منہ زور تھا
اس رات کا وہ منظر بہت عجیب لیکن قابلِ غور تھا
گرج چمک کے درمیان خنک ہوا بھی تھرتھراتی رہی
ہوا بھی زور و شور سے بارش کا ساتھ نبھاتی رہی
خوف زدہ عالم میں اپنے کمرے میں جا بیٹھی تھی
بیٹھے بیٹھے سو گئی خوف نے روح کھینچی تھی
کتنے پہر گزر گئے اور میں بیٹھی بیٹھی سوئی رہی
آنکھ کَھلی تو بیٹھی بیٹھی دیر تلک میں کھوئی رہی
خاموشی طاری تھی کوئی آواز تھی نہ ہی شور تھا
باہر آ کے دیکھا جب تو وہ منظر ہی کچھ اور تھا
دَور تک نگاہوں میں پھیلا ہوا ستاروں کا کارواں
کہکشاں، دَبِ اکبر، جھلمل ستاروں کا تھا جہاں
ٹمٹماتے جگمگاتے جھلملاتے بےشمار ستارے
آسمان پہ نور برساتے مسکراتے روشن ستارے
دور تک نظر میں در آئی تھی روشنی ہی روشنی
دل و نگاہ میں خوب سمائی تھیروشنی وہ روشنی
رات کے پچھلے پہر میں ایک حسین منظر دیکھا
پہلے کبھی نہ دیکھا تھا اس رات جو منظر دیکھا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






