منقبت: پیر عبد اللہ شاہؒ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
Poet: سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشی رحمتہ اللہ علیہ By: Nasir Hameed, Lahoreجان ونج نال ادبدے بیٹھیم نیڑے مرد صفائی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
تُو ہیں فرزند اساڈا دل وچہ رکھ چھپائی
تھی خوشحال حضور بیٹھیم جد کامل رمز ویکھائی
کر تسکین ٹکیم وچ خدمت تھیم امید سوائی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
ہک دینہہ نال عنایت دے شاہ ایہ گفتار آلائی
پند میری فرزند میرا سُن ہویسا بہت سجائی
جیکر موت ونجیںِ گھن اسانوں جانے نہیں جدائی
رہن قریب ہمیش اساڈے نت دل جان رلائی
چھوڑیں ناں اسانوں ہرگز ہوسی نہیں لوائی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
تھیسی گال کمال تینوں سبھ جو کُجھ اساں آلائی
گئی سستی وت چھوڑ جتھاں شہہ محکم بندھائی
خامی کنوں حضور اگے میں کر تقریر سنائی
جے فرماؤ حجرے وچ پکڑ بہاں تنہائی
چلّے دی بھی دیوو رخصت پوے قبول کمائی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
چھ ماہ گزر گئے وچ خدمت آکھیم نال جہکائی
نرمی نال زبان کنوں شاہ گل ایہہ فرمائی
حجرہ گِل دا جان فریبی چلّہ سبھ مکرائی
جوڑ قلعہ وچ حجرے دے چھپ بیٹھا درد ہوائی
کر دعوے فرعون وانگوں نِت رکھدا فخر وڈائی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
حُجرہ اصل پچھان پِسر بیا کُوڑ سبھ چترائی
حجرے دے وچ گم ھوون ہور دی خبر نہ کائی
چلّہ چال جمال ویکھیں جتھے اِسم کرے روشنائی
کیتا قول پلیسوں اساں نالے حکم خدائی
وقت اُتے موقوف سبھ گل تھیسی بہت چنگائی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
ہوسی نہیں زوال کوئی گل تھیسی نہیں اَجائی
غور کنوں فی الفور کرے بھی مخفی طور بھلائی
عاجز دی نت کرے تسلی وہ رہبر مولائی
عین یقین مقیم تھیا وت کرسن وعدہ وفائی
عبدلؔ جو تقدیر مقدر جان لکھی سر آئی
پیر عبداللہؒ شاہ مینوں ہک بات عجب سمجھائی
انتخاب : کلام مشائخ سروری قادری
تحقیق و ترتیب: خادم سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن سروری قادری مدظلہ الاقدس
ناشر: سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) لاہور
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






