موسم کے آئینے میں ،میں صورت خزاں کی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاموسم کے آئینے میں ،میں صورت خزاں کی ہوں
میں سوچتی ہوں ہر گھڑی مٹی کہاں کی ہوں
رستے کی تیز دھوپ میں بگڑا نہ کچھ کبھی
تخلیق کائنات میں وہم و گماں کی ہوں
سمجھا نہیں یقین سے مجھ کو زمین زاد
میں جا رہی ہوں میں تو پری آسماں کی ہوں
اب وقت روند ڈالے گا میرے وجود کو
اک داستان میں بھی کسی کارواں کی ہوں
مقتل میں لے چلا ہے مقدر تو کیا ہوا
احسان مند پھر بھی کسی مہرباں کی ہوں
شکوہ نہیں ہے کاروانِ اہلِ شوق سے
دشمن بھی آپ میں تو یہاں اپنی جاں کی ہوں
میں عشق کے حجاب سے نکلی نہیں کبھی
لیکن میں لوٹ جاؤں گی وشمہ جہاں کی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






