موسم گل میں بھی گل نذر خزاں ہیں سارے
Poet: شاہجہاں By: شاہجہاں, Dera Ismail Khanموسم گل میں بھی گل نذر خزاں ہیں سارے
مطمئن کوئی نہیں محو فغاں ہیں سارے
ہوشمندی سے قدم آگے بڑھاؤ لوگو
اپنی جانب ہی کھنچے تیر و کماں ہیں سارے
چہچہانے کی صدا آئی تھی کل تک جن سے
جانے کیوں آج وہ خاموش مکاں ہیں سارے
صرف دیوار کی اونچائی نظر آتی ہے
اے مرے شہر مرے لوگ کہاں ہیں سارے
اب خدا خیر کرے قافلہ والوں کی مرے
کھوئے کھوئے ہوئے منزل کے نشاں ہیں سارے
کتنا دھندلا دیا حالات نے تم کو شوقیؔ
جن کو تم ابر سمجھتے ہو دھواں ہیں سارے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






