موسمِ برسات
Poet: خمار دہلوی By: خمار دہلوی, دہلی انڈیہ موسمِ برسات ہے لیکن گھٹا چھائی نہیں
آپنے شاید ابھی تک زلف لہرائی نہیں
ہر کوئی شیدا ہے تجھ پہ دولتِ دنیا مگر
اِک مرا ہی دل ہے جو تیرا تمنّائی نہیں
ایک کڑوا سچ ہے یہ بھی اس مشینی دور میں
وقت کس کے پاس ہے اب کون ہرجائی نہیں
ایسے بھی کچھ اہلِ اردو ہیں جنہوں نے آج تک
تختی اپنے نام کی اردو میں لکھوائی نہیں
اے "خمار" اب دشمنوں ہی سے رکھینگے واسطہ
دوستوں کی دوستی تو ہمکو راس آئی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






