ميرے شہر كے ہر شخص نے پتھر مجھ پر اٹھايا ہے..
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreبرسوں بعد وہ ميرے شہر ميں آيا ہے
آنكھوں كو اس كی ياد نے بہت رلايا ہے
پوچھتا پھرتا ہے ہر كسی سے پتہ مير
ميرے گھر كا راستہ اس نے خود بھلايا ہے
مانتا ہے كہ اسے مجھ سے محبت ہے آج بھی
سر پر سہرا كسی اور كے نام كا سجايا ہے
بيٹھی رہی مہندی ہاتھوں ميں رچائے اس كے نام كی
بنا كر كسی اور كو دلہن پہلو ميں بيٹھايا ہے
سينے پر زخم ہزاروں كھائے بيٹھے ہيں
چہرے پر مسكراہٹ لئے درد كو چھپايا ہے
ہونٹوں ميں سسكتی آہيں دبا ركھی تھيں كب سے
دل نے آج انھيں كيسے ادھيڑ كر سجايا ہے
رسوائيوں كے ڈر سے اس كی گليوں كو چھوڑا ہم نے
ميرے شہر كے ہر شخص نے پتھر مجھ پر اٹھايا ہے
ہم نے تو صدا اسے اپنی پلكوں پر بٹھايا ہے
وہ اور ہوں گے جنھوں نے اسے نظروں سے گرايا ہے
لاكھ طوفاں تھے نفرتوں كے زندگی ميں آئے
پھر بھی ہنس كر بے رخيوں كو اپنايا ہے
چاہتا تھا بےوفا ہو كر بھی وفا اس كے نام رہے
خود كو ہار كر بھی ہم نے اس كو جتايا ہے
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






