ميرے شہر كے ہر شخص نے پتھر مجھ پر اٹھايا ہے..

Poet: Neelam By: Neelam, Lahore

برسوں بعد وہ ميرے شہر ميں آيا ہے
آنكھوں كو اس كی ياد نے بہت رلايا ہے

پوچھتا پھرتا ہے ہر كسی سے پتہ مير
ميرے گھر كا راستہ اس نے خود بھلايا ہے

مانتا ہے كہ اسے مجھ سے محبت ہے آج بھی
سر پر سہرا كسی اور كے نام كا سجايا ہے

بيٹھی رہی مہندی ہاتھوں ميں رچائے اس كے نام كی
بنا كر كسی اور كو دلہن پہلو ميں بيٹھايا ہے

سينے پر زخم ہزاروں كھائے بيٹھے ہيں
چہرے پر مسكراہٹ لئے درد كو چھپايا ہے

ہونٹوں ميں سسكتی آہيں دبا ركھی تھيں كب سے
دل نے آج انھيں كيسے ادھيڑ كر سجايا ہے

رسوائيوں كے ڈر سے اس كی گليوں كو چھوڑا ہم نے
ميرے شہر كے ہر شخص نے پتھر مجھ پر اٹھايا ہے

ہم نے تو صدا اسے اپنی پلكوں پر بٹھايا ہے
وہ اور ہوں گے جنھوں نے اسے نظروں سے گرايا ہے

لاكھ طوفاں تھے نفرتوں كے زندگی ميں آئے
پھر بھی ہنس كر بے رخيوں كو اپنايا ہے

چاہتا تھا بےوفا ہو كر بھی وفا اس كے نام رہے
خود كو ہار كر بھی ہم نے اس كو جتايا ہے

Rate it:
Views: 1036
06 Jan, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL