مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
Poet: Nadeem Gullani By: Silsilla, lahoreتمہاری محفل سے جا رہا ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
اے میرے یارو لو میں چلا ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
رہ وفا میں فنا ہُوا پر کسی کے آگے جُھکا نہیں جو
وفاؤں کا میں وہ قافلہ ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
تیری دُعاؤں کے صدقے سے ہی وہاں پہ شاید میں بخشا جاؤں
یہ جاتے جاتے میں کہہ رہا ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
مُجھے دوبارہ صدا نہ دینا کہ اب تو باہم نہیں رہے ہم
میں تیری دنیا سے جا چُکا ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
نہ منزلوں کی خبر ہے مُجھ کو نہ راستوں کا پتہ ہے پھر بھی
میں اپنے گھر سے تو چل پڑا ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
نہیں ہے جس کا حل اب تو کوئی ندیم بس اک سوا تمہارے
میں ایک ایسا ہی مسئلا ہوں مُجھے دُعاؤں میں یاد رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






