مُجھے مٹی کا نگر یاد نہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمُجھے مٹی کا نگر یاد نہیں
جانے کب چھوڑا تھا گھر یاد نہیں
یہ تو ہے یاد ہُوا پیار ہمیں
پہلے کِس نے کی نظر یاد نہیں
مِرا نام آۓ تو اَب کہتا ہے
پیار تھا اُس سے مگر یاد نہیں
یوں تو ہوں محوِ سفر میں بھی مگر
مُجھے جانا ہے کِدَھر یاد نہیں
میں نے تو یاد کیا تھا اُس کو
چَشم کب ہو گئ تَر یاد نہیں
اِس طرح ہِجر نے ناشاد کیا
مُجھے کوئ شام سحر یاد نہیں
لوگ بچوں کا لہُو بُھول گۓ
ماؤں کو لختِ جگر یاد نہیں
شہر سارا نیا تعمیر ہُوا
اَب کسی کو مِرا گھر یاد نہیں
اَرے باقرؔ تُو جو شاعر تھا کبھی
تُجھے کیوں اَپنا ہُنر یاد نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






