مِرا دل یہ چاہتاہے
Poet: وَرْد بزمی By: Ward Bazmi , Islamabadمِرا دل یہ چاہتاہے
مِرا دل یہ چاہتا ہے
تِرے گھر سے تیرے کالج
کے تمام راستوں پر
میں گُلاب اِتنے پھینکُوں
جو زمین کو چُھپا دیں
تِرے پاؤں اُن گُلابوں
کو حسین تر بنا دیں
میرا دل یہ چاہتا ہے
میرا دل یہ چاہتا ہے
تِرا ہاتھ زندگی بھر
مِرے ہاتھ سے نہ چُھوٹے
مِری دھڑکنوں کا ناطہ
مِرے دل سے ٹُوٹ جائے
مِری رُوح میرے پیکر
سے بہ شوق چُھوٹ جائے
تِرا ساتھ پر نہ چُھوٹے
میرا دل یہ چاہتا ہے
میرا دل یہ چاہتا ہے
کہ میں بن کے ایک چھلہ
تِری اُنگلیوں میں گُھومُوں
تِری اُنگلیوں کو چُوموں
تُو تھکن کی ساعتوں میں
میری چاہتوں میں کھو کر
جو دبائے لب سے اُنگلی
میں تِرے لبوں کو چُومُوں
میرا دل یہ چاہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






