مٰیں اور میرا آینہ۔۔۔۔
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujaratآج میرا آینہ بھی مجھ سے اُلجھ بیٹھا نہ سنواراکرو خودکو میرےسامنے
ٹوٹ گیا اگر نفیس یادوں کے سوا تیرے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں
کہا عادت ہےکھڑا ہو کےتیرے سامنے آنکھوں میں چہرا یار دیکھنےکی
ورنہ یقیں جانو صاحب اک مدت سے میں نے خود کو سنوارا ہی نہیں
آہ ہزار بار میرے سامنےمیں تم کو دیکھوں تو مجھ کو دیکھےکوئی گِلا نہیں
ہو کہ کھڑا تو روئے میر ے سامنے یہ بات مجھ کو گواراہ نہیں
ہاں اب تو ہی بتا یہ شہر اعجنبی ، یہاں لوگ اعجنبی اور میں تنہا تنہا
نہ یار دکھتا ہے نہ گھر بار دکھتا سوا رونے کے میرا گوزارہ بھی نہیں
تم چھوڑ کیوں نہیں دیتے اُسے کر لو سمجھوتا اب حالات کے ساتھ
بستی ہے جہاں میں بہت سی دنیا کیا ملتا کوئی اور تمیں دوباراہ نہیں
کہا سی لو ہونٹوں کو اپنےاب نہ کہنا اُس کی ذات پہ کوئی اور لفظ مجھے
کرےکوئی اُس سے جُدا ہونے کی بات ، مجسف، یہ مجھ کو گواراہ نہیں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






