مٹی کی خوشبو

Poet: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottingham

تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں

بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں

وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں

دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں

وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں

چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں

سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں
 

Rate it:
Views: 103
25 Mar, 2026
More Sad Poetry