مٹی کے گروندے ہوتے ہیں
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eآنکھوں کے بند دریچوں میں
خواب سہانے ہوتے ہیں
محبت کرنے والوں کے
دلچسپ افسانے ہوتے ہیں
کبھی دل خوشی سے جھومتا
کبھی خوف انجانے ہوتے ہیں
عاشقوں کی خواہشوں کے محل
مٹی کے گروندے ہوتے ہیں
کچی ڈور سے باندھتے نہیں
چاہنے والوں کے پختہ ارادے ہوتے ہیں
پیار کرنے والوں کی قسمت کے
دھاگے اکثر الجھے ہوتے ہیں
کبھی دل رخمی کبھی روح زخمی
عشق کی راہوں میں کانٹے بکھرے ہوتے ہیں
اک بات کہو جو مانو یا نہ مانو
ہر دل میں جذبات محبت چھپے ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






