مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
میری آنکھوں میں ہے اُس سحرِ رنگین کا خمار اب تک
زمانہ ہو چکا اس اوّلیں مڈبھیڑ کو، لیکن
سنائی دے رہی ہے تیری نظروں کی پکار اب تک
غمِ دوراں کی تاریکی کے سیلِ بیکراں اُمڈے
مگر ٹوُٹا نہیں تیری تجلّی کا حصار اب تک
شبستانوں کے در ہر چند مُجھ پر وا نہیں ہوتے
مگر اِک مست و بیخود رات کا ہے انتظار اب تک
کوئی آتا نہیں اب دل کی بستی میں، مگر پھر بھی
اُمیدوں کے چراغوں سے ہیں روشن رہگزار اب تک
ابھی تک نصف شب کو چاندنی گاتی ہے جھرنوں میں
نہیں بدلی شبابِ متظر کی یاد گار اب تک
جلا رکھے ہیں شہراہوں پہ اشکوں کے دِیے کب سے
نہیں گزرا مگر اس سمت سے وہ شہسوار اب تک
جو حُسن و عشق کی پیکار میں آنکھوں سے ٹپکے تھے
انھیں تاروں سے ہے دامانِ ہستی زرنگار اب تک
شکستِ آرزو کو عِشق کا انجام کیوں سمجھوں
مقابل ہے میرے آئینۂ لیل و نہار اب تک
ندیمؔ ان مشعلوں کی جگمگاہٹ بڑھتی جاتی ہے
کہ لہرایا نہیں اس بزم میں دامانِ یار اب تک
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






