مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
میری آنکھوں میں ہے اُس سحرِ رنگین کا خمار اب تک
زمانہ ہو چکا اس اوّلیں مڈبھیڑ کو، لیکن
سنائی دے رہی ہے تیری نظروں کی پکار اب تک
غمِ دوراں کی تاریکی کے سیلِ بیکراں اُمڈے
مگر ٹوُٹا نہیں تیری تجلّی کا حصار اب تک
شبستانوں کے در ہر چند مُجھ پر وا نہیں ہوتے
مگر اِک مست و بیخود رات کا ہے انتظار اب تک
کوئی آتا نہیں اب دل کی بستی میں، مگر پھر بھی
اُمیدوں کے چراغوں سے ہیں روشن رہگزار اب تک
ابھی تک نصف شب کو چاندنی گاتی ہے جھرنوں میں
نہیں بدلی شبابِ متظر کی یاد گار اب تک
جلا رکھے ہیں شہراہوں پہ اشکوں کے دِیے کب سے
نہیں گزرا مگر اس سمت سے وہ شہسوار اب تک
جو حُسن و عشق کی پیکار میں آنکھوں سے ٹپکے تھے
انھیں تاروں سے ہے دامانِ ہستی زرنگار اب تک
شکستِ آرزو کو عِشق کا انجام کیوں سمجھوں
مقابل ہے میرے آئینۂ لیل و نہار اب تک
ندیمؔ ان مشعلوں کی جگمگاہٹ بڑھتی جاتی ہے
کہ لہرایا نہیں اس بزم میں دامانِ یار اب تک
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






