مکالماتی نظم
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamاس نے کہا تم سے تو میرے حسن کی تعریف ہو نہیں سکتی
میں نے کہا آپ کی شخصیت میرے اشعار میں سمو نہیں سکتی
اس نے کہا بارشیں مجھے تیری یاد دلاتی ہیں
میں نے کہا آپ مجھے ہر پل یاد آتی ہیں
وہ پوچھتی ہے میں کیوں ہر وقت مسکراتا رہتا ہوں
میں کہتا ہوں اس طرح تیری جدائی کا غم چھپاتا رہتا ہوں
اس نے کہا تو میری زندگی میری جان ہے
میں نے کہا یہی تو سچی محبت کی پہچان ہے
اس نے کہا ہم تمہیں پیار بے شمار کرتے ہیں
میں بولا اسی لیے آپ ستم بھی قسط وار کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






