مکمل کاٹ کر اپنی
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمکمل کاٹ کر اپنی سزا کے بعد آتا ہے
بلاتا ہوں اسے میں التجا کے بعد آتا ہے
لگے جب چوٹ گہری دل پہ ملنے یار آ جائے
محبت کا مزا یارو جفا کے بعد آتا ہے
نہیں ہوتی محبت میں عداوت تو کبھی اچھی
پرانا قرض اپنا وہ چکا کے بعد آتا ہے
عبادت ہے بنوں عاشق کرو تم عشق آقا سے
محمد نام پیارا ہے خدا کے بعد آتا ہے
نہیں وہ جانتا تھا جان کس کی آج لینی ہے
وہ کرنے ظلم اپنوں پر صبا کے بعد آتا ہے
کروفر ہے وہی شہزاد بدلا وہ نہیں اب تک
کسی اپنے کا دل ساجن دکھا کے بعد آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






