مہرباں ماہتاب ہو جاتا
Poet: Naeem Ahmed Malik By: Naeem Ahmed Malik, Sambrialمہرباں ماہتاب ہو جاتا
کیوں؟ ہی جینا عذاب ہو جاتا
باز رحمت کا باب ہو جاتا
عزم میں کامیاب ہو جاتا
اس کا دور اجتناب ہو جاتا
تو نہ غم کی کتاب ہو جاتا
شوخ اگر ساز گاریاں رکھتا
یوں نہ خستہ خراب ہو جاتا
جو کچھ الفت میں اور ہو نا ہے
کاش وہ بھی شاتاب ہو جاتا
وجہ تسکین اگر کوئی ہوتا
کیوں مجھے اضطراب ہو جاتا
ہوتا گر نند خو وفا شیوہ
عِشق کارِ ثواب ہو جاتا
کاش مری وفاﺅں کا نعیم
اُس کے حل میں حساب ہو جاتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






