مہکا جو میں، تو ایک ہوا لے گئی مجھے
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiکچھ دور تک تو اُس کی صدا لے گئی مجھے
پھر موج میرے من کی اُڑا لے گئی مجھے
پہرا لگا ہی رہ گیا اُلفت میں ہجر کا
آنچل میں یادِ یار چھپا لے گئی مجھے
منزل ہی تھی نظر میں نہ رستے کا ہوش تھا
اُس در تلک یہ کس کی دعا لے گئی مجھے
کس میں تھا حوصلہ کہ گزارے مگر، حیات
باتوں میں اپنے ساتھ لگا لے گئی مجھے
دل میں کھلا تھا پیار کسی پھول کی طرح
مہکا جو میں، تو ایک ہوا لے گئی مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






